New
Loading...

چھانگلہ گلی کا خوابناک سفر — برف، پہاڑ اور پرستان جیسا منظر

 

چھانگلہ گلی کا خوابناک سفر — برف، پہاڑ اور پرستان جیسا منظر

کچھ سفر دل میں ہمیشہ کے لیے بس جاتے ہیں، اور کچھ لمحے وقت کے دھندلکوں میں بھی روشن رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک سفر میں نے اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ کیا — چھانگلہ گلی کا۔ یہ سفر نہ صرف ایک قدرتی حسن سے بھرپور تجربہ تھا، بلکہ روح کو چھو جانے والا لمحہ بھی۔ جب پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھی ہوئی ہو، اور فضاء میں صرف برف کے گرتے ذروں کی سرگوشی ہو، تو انسان خود کو ایک خواب میں محسوس کرتا ہے۔


روانگی اور ابتدائی جوش

ہم نے یہ سفر ایک سرد موسم کی صبح شروع کیا۔ گاڑی میں دوستوں کی ہنسی، موسیقی اور چائے کے تھرماس کے ساتھ ہم روانہ ہوئے۔ جیسے جیسے ہم مری سے آگے بڑھے، سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا، اور راستے میں ہلکی ہلکی برفباری نے استقبال کرنا شروع کیا۔

چھانگلہ گلی پہنچتے ہی منظر ہی بدل گیا۔ ہر طرف سفید برف کی تہیں، درختوں پر جمی ہوئی برف، اور فضاء میں قدرت کا جادو بکھرا ہوا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی جادوئی دنیا میں آ گئے ہوں، جہاں سب کچھ خاموش، پرُ سکون اور دل کو لبھانے والا ہو۔


برفباری کا جادو

برفباری کی شدت میں اضافہ ہوا تو ہم سب نے گرم کپڑے کس کر پہن لیے اور باہر نکلے۔ برف میں چلنا، ایک دوسرے پر برف پھینکنا، اور کچھ دیر کے لیے بچپن میں لوٹ جانا — یہ وہ لمحے تھے جنہیں بیان کرنا لفظوں سے ممکن نہیں۔
پہاڑوں پر برف ایسے تھی جیسے کسی نے روئی کے گالے پھیلا دیے ہوں۔ درختوں نے برف کی سفید ٹوپیاں پہن رکھی تھیں، اور فضا میں ایک دلفریب خاموشی تھی — جیسے وقت تھم گیا ہو۔


ہوٹل میں دو راتوں کا قیام

ہم نے چھانگلہ گلی کے ایک خوبصورت ہوٹل میں دو راتیں قیام کیا۔ کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکیں تو پہاڑوں کی برفیلی چوٹیاں نظر آتی تھیں۔ رات کو جب باہر سب کچھ سنّاٹے میں ڈوبا ہوتا، اور دور کہیں کوئی کتا بھونکتا، یا برف کی تہہ سے کچھ گرنے کی آواز آتی، تو یہ خاموشی بھی ایک عجیب سحر پیدا کرتی۔

ہم نے ہیٹر کے پاس بیٹھ کر چائے پی، گپ شپ کی، اور کبھی کبھی کھڑکی سے جھانک کر اس پرستان جیسے منظر کو دیکھتے رہے۔ وہ لمحے جیسے دل کے کسی کونے میں قید ہو گئے۔


پرستان کا سا گماں

وہ دو دن، وہ برف، وہ مناظر — سب کچھ ایک خواب کی مانند تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ہم کسی پرستان میں آ گئے ہوں، جہاں سب کچھ نرم، سفید، پاکیزہ اور دلفریب ہو۔ قدرت کا یہ رنگ انسان کی سوچ سے بالاتر تھا۔

چھانگلہ گلی کا ہر منظر، ہر لمحہ، ایک شاعری کی مانند تھا — خاموش، مگر دل کو چُھو لینے والا۔


اختتامیہ

اس سفر نے ہمیں نہ صرف دوستوں کے ساتھ خوشی کے لمحات دیے بلکہ قدرت کے قریب ہونے کا احساس بھی بخشا۔ چھانگلہ گلی کا برف سے ڈھکا ہوا حسن، دو راتوں کا سکون بھرا قیام، اور ایک پرستان جیسا خواب — یہ سب میرے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا ہے۔

اگر آپ کو کبھی موقع ملے، تو برفباری کے موسم میں چھانگلہ گلی ضرور جائیے۔ شاید آپ کو بھی وہاں جا کر وہی پرستانی جادو محسوس ہو جو ہم نے محسوس کیا۔

Such a Beautiful Place, really enjoyed, snowfall, really like a Fairy Land


Live Facebook
Previous Post Next Post